ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺗﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﮭﺎ
Related posts
-
قتیل شفائی
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا -
قتیل شفائی
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر... -
قتیل شفائی
پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف...
